نئی دہلی،30؍اگست (ایس او نیوز؍یواین آئی) ریزروبینک آف انڈیا نے کہاکہ سال 2016کے نومبر میں 500روپئے اور ایک ہزار روپئے والے پرانے نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے بعد ان میں سے 99اعشاریہ 3فیصد نوٹ اسکے پاس واپس آگئے ہیں۔
سنٹرل بینک نے بدھ کو جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں کہاکہ نوٹ بندی والے 500اور 1000روپئے کے 15310اعشاریہ 73لاکھ کروڑ روپئے کی قیمت کے پرانے نوٹ واپس آئے ۔نوٹ بندی سے پہلے 8نومبر2016کو 15417اعشاریہ 93لاکھ کروڑ روپئے کے 500اور 1000روپئے کے پرانے بینک نوٹ چلن میں تھے ۔
رپورٹ میں کہاگیاہے کہ نوٹ بندی کے بعد 500اور 2000ہزار روپئے کے نئے بینک نوٹوں کے ساتھ دیگر نوٹوں کی چھپائی پر کل 7965کروڑ روپئے خرچ ہوئے تھے جبکہ سال 16۔2015میں نوٹ چھپائی پر 3421کروڑ روپئے خرچ ہوئے تھے ۔
ریزروبینک کے اعدادوشمار کے مطابق ،اس سال مارچ کے آخر تک 18037لاکھ کروڑ روپئے کے نوٹ چلن میں تھے جو مارچ 2017میں چلن میں رہے نوٹوں کے مقابلہ 37اعشاریہ 7فیصدزیادہ ہیں ۔سال 18۔2017میں دوہزار روپئے کے نوٹوں کے مقابلہ 500روپئے کے نئے نوٹوں کی زیادہ سپلائی کی گئی ۔
ریزروبینک نے کہاہے کہ نوٹ بندی والے نوٹوں کو اعلیٰ معیار کی مشینوں سے جانچ اور گنتی کی گئی ہے ۔نوٹوں کی گنتی ہفتہ میں چھ دن چوبیس گھنٹے کی گئی ۔اس کے لئے بینکوں کے پاس موجود آٹھ اضافی مشینوں کے استعمال کے ساتھ ہی سات مشینیں کرائے پر بھی لی گئیں ۔
سنٹرل بینک کے سبھی مراکز پر نوٹ بندی والے نوٹوں کی گنتی پوری ہوگئی ہے اور کل 15310اعشاریہ 73لاکھ کروڑ کے پرانے نوٹ واپس آئے ہیں ۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ سال 17۔2016 کے مقابلہ سال 18۔2017میں 100روپئے کے نقلی نوٹوں کو پکڑنے میں 35فیصد کا اضافہ ہواہے ۔50روپئے کے نوٹوں میں یہ 154اعشاریہ 3فیصد رہاہے ۔500روپئے اور 2000ہزار روپئے کے نئے نوٹوں میں نقلی نوٹ پائے گئے ہیں ۔
سا ل 17۔2016میں 500روپئے کے 199نوٹ اور 2000روپئے کے 638نوٹ پکڑے گئے تھے جبکہ 18۔2017 میں یہ بڑھ کر بالترتیب 9892 اور 17929ہوگئے
۔ریزرو بینک نے ہندستانی معیشت کو لچکیلا بتاتے ہوئے رپورٹ میں کہاہے کہ اس سال مارچ میں ختم ہوئے مالی سال میں سرمایہ کاری اور تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری دیکھی گئی ہے ۔رپورٹ میں اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی )کے نفاذ کی تعریف کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ اس سے ایک مضبوط بالواسطہ ٹیکس کا ڈھانچہ تیار ہواہے ۔بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے تجارتی خسارہ کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ بین الاقوامی تیل بازار میں مانگ اور سپلائی میں ہورہی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر ملک کے تجارتی خسارے پر ہونے والا ہے ۔